جان فشانی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - محنت، کوشش؛ اضطراب، بے چینی؛ جاں نثاری۔ "جیسی جاں فشانی سے اس نے بھائی کی اولاد کو پالا، آج کوئی اپنے پیٹ کی اولاد کو نہ پا لے گا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ )
اشتقاق
فارسی زبان میں مرکب توصیفی 'جان فشاں' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'جان فشانی' بنا۔ ١٧٠٧ء میں ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - محنت، کوشش؛ اضطراب، بے چینی؛ جاں نثاری۔ "جیسی جاں فشانی سے اس نے بھائی کی اولاد کو پالا، آج کوئی اپنے پیٹ کی اولاد کو نہ پا لے گا۔" ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ )
جنس: مؤنث